مغرب نے ایران میں ایٹمی پروگرام کی سن گن لینے کے لیے چھپکلیوں اور گرگٹ کا استعمال کیا

تہران : ایران کی مسلح افواج کے سابق سربراہ نے کہا ہے کہ مغربی سراغرسانوں نے ملک کے جوہری پروگرام کے سن گن لینے کے لیے چھپکلیوں اور گرگٹ کا استعمال کیا ہے کیونکہ وہ ایٹمی لہروں سے متاثر ہو سکتی ہیں۔ رہبر اعظم آیت اللہ خامہ ای کے سینیئر فوجی مشیر حسن فیروزابادی نے منگل کے روز اس خیال کا اظہار اس وقت کیاجب مقامی ابلاغی ذرائع نے ان سے حال ہی میں ماہرین ماحولیات کی گرفتاری کے حوالے سے استفسار کیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ ان معاملات کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتا سکتے کیونکہ اس ضمن میں انہیںخود بھی تفصیلی معلومات نہیں ہیں۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ مغربی سیاح ، سائنسداں اور ماہرین ماحولیات اکثر ایران میں جاسوسی کرنے آتے ہیں۔کئی سال قبل کچھ لوگ فلسطین کے لیے امداد جمع کرنے ایران آئے تھے ۔ جس راستے سے وہ ایران آئے اس سے ہمیںان پر شک ہو گیا ۔
ان کے قبضہ سے گھوڑ پھوڑ، چھپکلیوں اور گرگٹ جیسی رینگنے والی مخلوق کی مختلف قسمیں ملیں۔ ہم نے سراغ لگا لیا کہ ان حشرات الارض کی کھالیں ایٹمی لہریں کھینچتی ہیں۔ اور وہ جاسوس نکلے جو یہ جاننا چاہتے تھے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اندر یورینیم کانیں کہاں ہیں اور ہماری ایٹمی سرگرمیاں کہاں چل رہی ہیں۔

Title: iran claims western tourists use lizards and chameleons to spy on nuclear programme | In Category: دنیا  ( world )