ادلب پر اسد فوج کی چڑھائی روس،ایران اور ترکی کے لیے کسی سخت واقعہ سے کم نہیں

انقرہ: شامی صوبہ ادلب میں بشار الاسد کی حکومت کی جاری فوجی کارروائی روس، ایران اور ترکی کے لیے کسی سخت آزمائش سے کم نہیں ہے کیونکہ شام کے میدان جنگ میں تینوں کا جدا کردار ہے۔ روس اور ایران کی مدد سے شامی حکومت کی ادلب پر حالیہ چڑھائی نے تینوں ممالک کے درمیان کشیدگی بڑھا دی ہے۔
شامی حکومت نے ادلب اور مشرقی غوطہ پر اپنا تسلط بحال کرنے کے لیے فوجی چڑھائی کر رکھی ہے۔ترکی نے باغیوںکے ٹھکانوں پر شامی فوج کے حملوں اور پیش قدمی کے خلاف یہ کہتے ہوئے احتجاج کیا ہے کہ اسد کی فوجیں ادلب میں اعتدال پسند حزب اختلاف کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
اس نے یہ بھی کہا کہ اس سے شام میں جنگ کا پرامن مسئلہ تلاش کرنے کے لیے حکومت اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان 29اور30جنوری کو بحر اسود کے ساحل سوچی میں ہونے والے مذاکرات کے امکانات متاثر ہوں گے۔
ترکی کی وزارت خارجہ نے ادلب میں اعتدال پسند حزب اختلاف کی فوجوںپر اسد حکومت کے حملے رکوانے کی کوشش میں منگل کو روس ور ایران کے سفیروںکو طلب کر کے آستانہ معاہدے کی خلاف ورزی پر اپنے شریک کاروں کو انتباہ دیا تھا۔

Title: assads idlib offensive litmus test on turkeys alliance with iran russia | In Category: دنیا  ( world )
Tags: , , ,