فلسطینی رہنماو¿ں نے یروشلم فیصلے کو ڈونالڈ ٹرمپ کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی بتایا

یروشلم: فلسطین کے رہنماو¿ں نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ڈونالڈ ٹڑمپ کی زندگی کی سب سے بڑی غلطی قرار دیا اور کہا کہ اس اعلان سے بنیاد پرست تنظیمیں جہاد کا اعلان کر دیں گی۔جس سے پورے خطہ ، جو پہلے ہی نازک دور سے گذر رہا ہے، سخت کو نقصان پہنچے گا۔واضح رہے کہ گذشتہ شب ٹرمپ نے کم و بیش70سال پرانی امریکی خارجہ پالیسی کے برعکس یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرتے ہوئے حکم جاری کیاتھاکہ امریکی سفارت خانہ واقع تل ابیب یروشلم منتقل کر دیا جائے ۔امریکی صدر نے وائٹ ہاو¿س کے سفارتی استقبالیہ کمرے سے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اب وقت آن پہنچا ہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کر لیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ بیس سال سے اسرائیل کے معاملے پر کسی امریکی صدر کی جانب سے پیش رفت نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس فیصلے کے ذریعہ دیرینہ امن کے قریب ہوگئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یروشلم کامیاب جمہوریتوں کا مرکز ہے اور یہاں پہلے سے ہی اسرائیل کی پارلیمان موجود ہے۔ انہوں نے کہا: یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے سے فلسطینی ریاست پر کچھ برے اثرات مرتب نہیں ہونگے ، ہر کسی کی خود مختار حیثیت برقرار رہے گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بیت المقدس میں ہر مذہب کے لوگ ایک ساتھ پ±ر امن زندگی گزار سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا: نفرت کے بیج بونے کی بجائے ہمیں بردباری سے کام لیتے ہوئے اپنی نسلوں کو امن کا پیغام دینا چاہیے ۔ٹرمپ کے اس فیصلہ پر عرب،یورپی اور مسلم ممالک میں شدید ردعمل ظاہر کیا جارہا ہے۔

Title: palestinians say trump jerusalem decision biggest mistake of his life | In Category: دنیا  ( world )