ٹرمپ کسی بھی وقت یروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کرنے کااعلان کر سکتے ہیں

واشنگٹن: ماضی میں امریکہ نے کبھی بھی یروشلم کے کسی حصہ پر صیہونی ریاست کے دعوے کو تسلیم نہیں کیا اور ہمیشہ اسی پر مصر رہا کہ یروشلم کی حیثیت اسرائیلی و فلسطینی مذاکرات کے ذریعہ طے کیا جائے۔
لیکن اب کچھ صورت حال بدل رہی ہے۔ اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ عرب، مسلم اور یورپی مخالفت کے باوجود بدھ کے روزیروشلم کو اسرائیل کا دارالخلافہ تسلیم کر لیںگے ۔
ٹرمپ کا یہ فیصلہ کئی عشر ے پرانی امریکی پایسی کو ختم کر کے پر تشدد احتجاجوں کا شاخسانہ بن سکتا ہے۔ امریکی اہلکاروںنے بتایا کہ مسٹر ٹرمپ وزارت خارجہ کو ہدایت دیں گے کہ وہ امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقدس شہر یروشلم منتقل کر دے۔تاہم یہ ابھی واضح نہیں ہو سکا ہے کہ ٹرمپ یہ عملی اقدام ،جواس ضمن میں کوئی قانون وضع کرنے کا متقاضی ہے، کس وقت کریںگے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسے حتمی شکل دینے لیے سفارت خانہ تعمیر کرنے کے مقام کا تعین کرنے سمیت کئی منطقی و سلامتی کی تفصیلات پر سب سے پہلے غورکرنے کی ضرورت پڑے گی۔ان امور کے باعث سفارت خانہ کی منتقلی کے عمل میں تین چار سال کی مدت درکار ہوگی ۔

Title: donald trump to recognise jerusalem as israel capital | In Category: دنیا  ( world )