امریکی کانگریس نے پاکستان کو امداد بحال کرنے کے لیے لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کی شرط ختم کر دی

نئی دہلی: ایسا علم ہوا ہے کہ امریکی کانگریس نے پاکستان کو ’دہشت گردی کے خلاف جنگ“ میں اس کے تعاون کے لیے دی جانے والی امداد کے لیے لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کرنے کی شرط ختم کر دی ہے۔
امریکی دفاعی بل کی نئی شکل کے مطابق کولیشن سپورٹ فنڈ سے پاکستان کو دی جانے والی امداد کے لیے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کو کہا گیا ہے لیکن اس مین لشکر طیبہ کا دور دور تک کوئی ذکر نہیں ہے۔
حقانی نیٹ ورک طالبان کا نہایت خوفناک بازو ہے اور اس کی تمام تر توجہ افغانستان میں اس کی دہشت گرانہ سرگرمیوں پر ہے۔ اور لشکر طیبہ جسے کالعدم قرار دیا جا چکا ہے،ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کرتا ہے اور اس کا بانی وسرغنہ حافظ سعید 2008کے ممبئی حملوں کو کلیدی مجرم ہے۔
اگر یہ بات درست ہے اور امریکی کانگریس نے پاکستان کو دی جانے والی امداد کے لیے عائد کردہ شرطوں میں سے لشکر طیبہ کے خلاف کارروائی کرنے کی شرط ختمکر دی ہے تو اس سے ہندوسان کو مایوسی ہو سکتی ہے۔
کیونکہ وہ اس سال لشکر طیبہ اور جیش محمد جیسے پاکستان مقیم دہشت گرد گروپوں کو عالمی فورموں پر لے جانے اور ان کی عالمی سطح پر مذمت کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔

Title: us congress decides against including action against let as condition for funds to pakistan pak media | In Category: دنیا  ( world )