دہشت گردی کے عفریت کو قابو کرنے میں علما و مشائخ و ائمہ حضرات سے کافی تعاون مل رہا ہے:برطانوی وزیر

نئی دہلی: برطانوی وزیر مملکت برائے دولت مشترکہ و اقوام متحدہ لارڈ طارق احمد نے کہا ہے کہ انسداد دہشت گردی صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، یہ کوشش رہنمائی کی سطح پر عوامی ساجھیدار کی متقاضی ہے۔ انہوں نے اس محاذ پر سیاست و معاشرت کے ہندستانی ذمہ داران کی ستائش کی جن کی مربوط کوششوں نے امن و امان کے منظر نامے کو دیگر متا ثر ملکوں کے مقابلے میں بہتر رکھا ہے۔ لارڈاحمد نے یہ بتاتے ہوئے کہ برطانیہ میں بھی اسی نہج پر کام کیا جارہا ہے جس کا مقصد مذاہب کے پیام امن کا دائرہ وسیع کرنا ہے، کہا کہ مذہب کے نام پر انتہاپسندی، تشدد اور دہشت گردی دراصل سیاسی عزائم کا نتیجہ ہے اور نوجوانوں کو اس سے بہرہ ور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے یہاں برطانوی ہائی کمشنر کی رہائش گاہ پر اردو، ہندی اور انگریزی کے نامہ نگاروں سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ یو این آئی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے برطانوی مملکتی وزیر نے کہا کہ مذہبی تقاضے بشمول جہاد کا تعلق بہتر انسان سامنے لانے سے نہ کہ قتل و غارتگری سے اور یہی وجہ ہے کہ علما بالخصوص ائمہ کو اس عفریت سے نجات کو کوششوں میں شامل کیا جارہا ہے جو بہت حد تک نتیجہ خیز ہے۔ ہندستان میں مدارس کے ذمہ داران کی طرف سے نوجوانوں کو ملک وقوم کے لئے موجب خیر بنانے اور مجموعی طور پر معاشرے کو مسلکی اور فرقہ وارانہ نفرت سے پاک رکھنے میں کامیابی کی طرف جب ان کی توجہ مبذول کرائی گئی تو انہوں نے اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہا اس محاذ پر ہند و برطانیہ دونوں اپنے تجربات و مشاہدات سے اشتراک کرتے ہیں۔
لارڈ احمددو روزہ دورے پر اپنے آبائی وطن ہندستان کل پہنچے ہیں۔اس دورے میں انہوں نے مملکتی وزیر خارجہ ایم جے اکبر اور دوسرے شعبہ جاتی بشمول تجارتی ذمہ داران سے ملاقات میں باہمی اور خارجی امور پر بات چیت کی جس سے عالمی تجارتی ماحول بنانے سمیت دولت مشترکہ تعلقات کو اور بہتر اور موثر بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے اپریل 2018 کی دولت مشترکہ کانفرنس سے خاطر خواہ توقعات کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے شیوننگ اور دولت مشترکہ اسکالرشپ کے تازہ ترین دور کو لانچ کرنے کے علاوہ صنفی مساوات کے معاملات پر کام کرنے والے ہندستانی شراکت داروں سے بات بھی کی۔

Title: british foreign office minister lord tariq ahmad visits india | In Category: دنیا  ( world )