چینی فوجیوں نے تبت میں مخصوص اسلحہ کے ساتھ حقیقی جنگ جیسی جنگی مشقیں کیں

بیجنگ: سکم سیکٹر کے ڈوکلم علاقہ میں چینی اور ہندوستانی فوجوں کے درمیان جاری تعطل کے درمیان چین کی فوج نے تبت میں جنگ میں استعمال کیے جانے والے مخصوص اصل ہتھیاروں کے ساتھ حقیقی جنگ جیسی جنگی مشقیں یا باالفاظ دیگر حملہ کی ریہرسل کی۔ چین کے سرکاری ٹیلی ویژن (سی سی ٹی وی) کے مطابق پیپلز لبریشن آرمی(پی ایل اے) نے تبت میں لائیو فائر ایکسرسائز (ایل ایف ایکس) کی ہیں۔ یہ وہ مشقیں ہوتی ہیںجس میں اسلحہ کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے اور بسا اوقات ان مشقوں کے دوران جانی اتلاف بھی ہوتا ہے۔
تاہم خبر میں ان مشقوں کا اصل محل وقوع اور وقت نہیں بتایا گیا۔گلوبل ٹائمز کے مطابق جس بریگیڈ نے یہ فوجی مشقیں کیں وہ پیپلز لبریشن آرمی کی تبت فوجی کمان کا تھا جو پہاڑوں کی جنگ میں مہارت رکھنے والے چین کے دو بریگیڈوں میں سے ایک ہے۔پی ایل اے تبت کمان ہند چین سرحد پر حقیقی کنٹرول لائن پر پہاڑی تبتی خطہ کو ملانے والے کئی راستوں کی حفاظت کے لیے تعینات ہے۔سی سی ٹی وی رپورٹ کے مطابق یہ بریگیڈ ہندوستان اور بنگلہ دیش میں بہہ کر آنے والے دریائے برہمپتر(چین میں یار لونگ زنگبو) کے وسط اور نشیبی مقامات کے اطراف تعینات ہے اور محاذی جنگی مہمات کا ذمہ دار ہے۔
ان جنگی مشقوں میں فوج کو تازہ کمک اور مشترکہ حملوں میں فوجیوں اور مختلف فوجی یونٹوں کی سرعت کے ساتھ آمد کو آزمایا گیا۔اس حوالے سے جاری ویڈیو میں بریگیڈ کے فوجیوں کو توپ شکن گولے،میزائلوں اور ہوئزر توپوں کا کھل کر استعمال کرتے دکھایا گیا۔ویڈیو میں اہداف کو تباہ کرنے کے لیے راڈار یونٹ دشمن کے طیاروں کا سراغ لگاتے اور فوجیوں کو طیارہ شکن توپوں کو استعمال کرتے بھی دکھایا گیا ہے۔یہ مشقیں 11گھنٹے تک جاری رہیں۔

Title: chinese army conducts live fire drills in tibet | In Category: دنیا  ( world )