ایران میں چینی نژاد امریکی محقق کو دس سال کی قید

دبئی:ایران کی ایک عدالت نے پرنسٹن یونیورسٹی کے گریجویٹ چینی نڑاد امریکی شہری کو جاسوسی کے الزام میں دس سال قید کی سزائی سنائی ہے۔ یہ اطلاع ایرانی عدلیہ کے ترجمان نے آج دی ہے، جو کہ ایران میں دوہری شہریت رکھنے والے جاسوس کا تازہ ترین معاملہ ہے۔ ایرانی عدلیہ کی سرکاری ویب سائٹ میزان پر بتایا گیا کہ37سالہ شیوے وانگ و ریسرچ کرنے کی آڑ میں جاسوسی کرنے کا ملزم پایا گیا ہے۔ شیوے وانگ کی پیدائش چین میں ہوئی تھی مگر اس نے امریکی شہریت حاصل کرلی تھی۔
اس کو جولائی 2016 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا ، جب وہ ایران سے واپس جانے کی کوشش کررہا تھا۔ سرکاری ٹیلیویژن پر عدالتی ترجمان غلام حسین محسن اعجاز نے بتایا کہ یہ شخص معلوما ت جمع کررہا تھا اور براہ راست امریکہ سے اس کی رہنمائی کی جارہی تھی۔ اس کو دس سال قید کی سزا دی گئی ہے ،لیکن اس سزا کے خلاف اپیل کی جاسکتی ہے ۔ دریں اثنا امریکی محکمہ خارجہ نے ایران پر امریکی شہریوں اور دیگر غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کرنے کے بہانے قومی سلامتی سے متعلق الزامات وضع کرنے کا الزام لگایا
۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے کہا کہ ہم ایران میں بلاجواز حراست میں لئے گئے تمام امریکی شہریوں کو فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہیں ، تاکہ وہ اپنے خاندانوں میں واپس لوٹ سکیں ۔ انہوں نے امریکی شہریوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام امریکی شہریوں، بالخصوص دوہری شہریت رکھنے والے امریکیوں کو ایران کا سفر کرنے سے پہلے ہماری تازہ سفری ایڈوائزری کو بغور پڑھ لینا چاہئے ۔

Title: american citizen sentenced to 10 years in iran on spying conviction | In Category: دنیا  ( world )