وائٹ ہاؤس نے فلپائنی صدر کو مدعو کرنے کے فیصلہ کا دفاع کیا

واشنگٹن:امریکی صدر دفتر وائٹ ہاؤس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فلپائن کے صدر روڈریگو دتیرتے کو واشنگٹن مدعو کرنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیم کی طرف دتیرتے پر فلپائن میں منشیات مشتبہ افراد کے قتل کے مہم کی حمایت کے الزامات کے بعد بھی مسٹر ٹرمپ نے مسٹر دتیرتے کے ساتھ فون پر بات چیت کرکے انہیں امریکہ آنے کی دعوت دی۔ وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف رینس پریبس نے مسٹر ٹرمپ کے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے ان کے تعاون کی ضرورت ہے۔
ان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو خوش گوار رہی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک اور جزیرہ نما کوریا کے لیے شمالی کوریا سب سے بڑا خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے ہمیں کئی ساتھیوں کی ضرورت ہے۔ پریبس نے کہا کہ مسٹر دتیرتے سے رابطہ کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ کے لئے انسانی حقوق کی کوئی اہمیت نہیں ہے لیکن اس کے لئے شمالی کوریا زیادہ بڑا مسئلہ ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے ایشیا ڈائریکٹر جان اسٹیفن نے کہا کہ ایک ایسا آدمی جو اپنے ہی شہریوں کے قتل کرواتا ہے، اسے وائٹ ہاؤس مدعو کیا جارہاہے۔ دتیرتے کےانسانی حقوق کے تئیں نفرت کےریکارڈ پر ہمارا چپ ہونا، ایک خوفناک پیغام بھیجتا ہے۔

Title: white house defends invitation to philippines duterte | In Category: دنیا  ( world )