امریکہ دہشت گردی کا درخت جڑ سے اکھاڑ پھینکے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا: امریکی نائب صدر

جکارتہ:امریکہ نے کہا ہے کہ فرانس کے دارالخلافہ پیرس میں جمعرات کو ہونے والے دہشت گردانہ واقعہ اس بات کی تازہ مثال ہے کہ دہشت گرد کہیں بھی کسی وقت حملہ کر سکتے ہیں۔ اس لیے امریکہ نے طے کر لیا ہےکہ وہ اب دہشت گردی کے اس تناور درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا۔جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی معیشت والے ملک انڈونیشیا کے دو روزہ دورے کے آخری دن امریکی نائب صدرت مائیک پنس آج یہاں صنعت کاروں کے ایک گول میز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ مسٹر پنس نے کہا، ”دہشت گردی کا تازہ واقعہ سے متعلق ہمارے بیان سے انڈونیشیا بھی واسطہ رکھتا ہے۔ دہشت گردی سے انڈونیشیا اور امریکہ دونوں کو خطرہ ہے۔
ہم لوگ دہشت گردی کو ختم کرے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے“۔ مسٹر پنس نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں واشنگٹن انڈونیشیا کے ساتھ کھڑا ہے اور دونوں مل کر اس کے خلاف آخر تک جنگ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کل یہاں کی بڑی مسجد میں سجدہ کرنے کے بعد کہا تھا کہ انڈونیشیا میں اسلام کی جدید شکل دوسرے ممالک کے لئے مثال ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا گذشتہ 15 سال سے دہشت گردی کا دکھ جھیل رہا ہے۔ شروع میں القاعدہ کے دہشت گردوں نے اس پر حملے کیے اور اب دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ فی العراق و الشام (داعش) اسکو اپنا نشانہ بنا رہا ہے۔

Title: mike pence praises indonesias moderate islamic culture | In Category: دنیا  ( world )
Tags: