یمنی حوثیوں کا ایک گاؤں پر حملہ 7کاشتکار ہلاک

 صنعا: یمن میں خانہ جنگی کے خاتمہ کے لیے جاری امن مذاکرات پراس وقت کاری ضرب لگی جب حوثیوں نے سات افراد کو گولی سے اڑا دیا اور یہ دعویٰ کیا کہ انہوں نے جن افراد کو ہلاک کیا ہے وہ القاعدہ کے دہشت گرد تھے۔
لیکن مقامی باشندے کوئی دوسری ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ وسطی یمنی کے ایک گاو¿ں کے باشندوں نے بتایا کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی انتہا پسندوں نے حکومت حامیملیشیا کے ایک رہنما کی تلاش کے دوران سات کاشت کاروں کوگولی مارکر ہلاک کردیا۔
واضح رہے کہ ملک میں خانہ جنگی کے خاتمہ کے لئے یمن کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان امن مذاکرات دو مہینہ سے جاری ہیں جس کے زیادہ ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے ہیں۔ گذشتہ10 اپریل کو ہونے والی عارضی سطح سے لڑائی شدت میں کمی تو آئی ہے مگر تصادموں کا سلسلہ گویا روز مرہ کا معمول بن گیاہے۔
صوبہ ایبکے ندارا گاو¿ں کے باشندوں نے بتایا کہ حوثیوں کو حکومت حامی نیم فوجی دستہ کا لیڈر تو ہتھے نہیں چڑھا لیکن انہوں نے جھنجھلاہٹ میں اس کے مکان کو دھماکہ کر کے اڑادیا اور کھیتو ں میں کام کرنے والے سات افراد کو ہلاک کردیا۔
دوسری طرف حوثیوں کا دعوی ہے کہ انہوں نے دہشت گردوں کے ایک ٹھکانہ پر حملہ کیا جس کے دوران القاعدہ کے آٹھ جنگجوو¿ں کو موت کے گھاٹ اتار دیاگیا۔