مذہبی عدم رواداری کی وجہ سے افغانستان سے سکھ اور ہندوترک وطن کر رہے ہیں

کابل:افغانستان میں بڑھتی مذہبی عدم رواداری اور طالبان کی زور زبردستی سے ہر مذہب کے لوگوں کو اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے پر مجبور کرنے سے افغانستان کی اقلیتوں خاص طور رپر سکھوں اور ہندوؤں میں زبردست کوف و ہراس پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث ہندوؤں اور سکھوں نے نقل مکانی شروع کر دی اور افغانستان سے بھاگنا شروع کر دیا۔
موصول اطلاع کے مطابق غیر مسلم طبقے کے لوگوں پر حملوں میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں دھمکی دے کر اسلام قبول کرنے کا دباو¿ ڈالا جارہا ہے۔ کابل میں جڑی بوٹیوں اور دواو¿ں کی دکان چلانے والے جگتار سنگھ لاگھمنی کو دکان میں ہی ایک شخص نے چاقو کی نوک پر اسلام قبول کرنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایسانہ کرنے پر اس کا سر قلم کردیا جائےگا۔ لیکن مقامی لوگوں اور دکانداروں کی مدد سے اس سکھ دکاندار کی جان بچائی جاسکی۔
جگتار سنگھ نے کہا،”ہمارے دن کی شروعات نامعلوم خوف اور اکیلے پن کے احساس سے ہی ہوتی ہے۔اگر آپ مسلمان نہیں ہیں تو ان کی نظروں میں آپ انسان نہیں ہیں۔مجھے نہیں معلوم کہ کیا کرنا چاہیے اورہم کہاں جائیں۔“ سیکٹروں برسوں تک ہندو اور سکھ سماج کے لوگوں نے یہاں کاروبار اور مالی لین دین میں اہم رول اداکیا ہے۔ لیکن آج ان کی پہچان دواو¿ں میں استعمال ہونے والی جڑی بوٹیوں کی دکانیں چلانے والوں کی حد تک ہی بن کر رہ گئی ہے۔
افغانستان میں ہندوو¿ں اور سکھوں کی قومی کونسل کے صدر اوتار سنگھ نے کہا کہ 1992میں طالبان کے اقتدار میں آنے سے پہلے ملک میں تقریباًدولاکھ 20ہزار ہندو اور سکھ کنبے تھے لیکن اس وقت ملک میں صرف ایسے 220کبنے بچے ہیں۔پہلے اقلیتی طبقے کے لوگ پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے لیکن اب یہ ننگرہار،گزنی اور دارالحکومت کابل میں سمٹ کر رہ گئے ہیں۔
اگرچہ افغانستان پوری طرح سے مسلم ملک ہے لیکن 2001میں طالبان کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد آئینی طور پر اقلیتوں کو مذہبی عقائد کو ماننے کی آزادی دی گئی ہے۔ مسٹر اوتار سنگھ نے کہا کہ موجودہ دور میں ہماری حالت سخت اسلامی قانون ماننے والے طالبان کے وقت سے بھی زیادہ ابتر ہے۔
طالبان کے وقت میں ہندواور سکھوں کو انکی شناخت کےلئے پیلے رنگ کے دھبے والے کپڑے پہنے ہوتے تھے لیکن اس کے علاوہ شاید ہی کبھی کوئی پریشانی ہوتی تھی۔ انہوں نے کہا ،”ہمارے اچھے دن گزرے کافی وقت ہوگیا،جب ہماری شناخت بیرون ملک کے لوگوں کے طور پر نہیں بلکہ ایک افغان کے طور پر ہوتی تھی ۔